26 اگست، 2026، 6:15 PM

خلیج فارس میں دشمن کا کوئی جنگی جہاز موجود نہیں، جنرل محبی

خلیج فارس میں دشمن کا کوئی جنگی جہاز موجود نہیں، جنرل محبی

سپاہ پاسداران انقلاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ کہ دشمن کے تمام جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے کم از کم 400 کلومیٹر دور جاچکے ہیں، جبکہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے پانیوں اور آمدنی میں حصے کے حوالے سے اتفاق ہو چکا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان جنرل حسین محبی نے آبنائے ہرمز کی تازہ صورتحال کے بارے میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کے اختیار میں ہے اور خلیج فارس میں دشمن کا کوئی جنگی جہاز موجود نہیں ہے۔

انہوں نے مہر نیوز کو بتایا کہ دشمن کے تمام جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے کم از کم 400 کلومیٹر دور جا چکے ہیں اور فوجی و علاقائی اعتبار سے کوئی بھی جہاز ایران کی اجازت اور نگرانی کے بغیر اس آبی گزرگاہ سے گزر نہیں سکتا۔

محبی نے مزید کہا کہ عمان کے قریب واقع آبی گزرگاہ بھی مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے۔

آبنائے ہرمز کے سیاسی پہلوؤں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی ملکیت ہے، جو ایران کے سامنے واقع ہے۔ تقریباً ایک ماہ قبل ایران نے عمان کے ساتھ اس حوالے سے مذاکرات کیے تھے اور دونوں ممالک ایسے نتائج تک پہنچے تھے جنہیں دونوں طرف سے قبول کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز کے پانیوں میں دونوں ممالک کے حصے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں ایران اور عمان کے حصے کے بارے میں بھی اتفاق کیا گیا تھا۔

جنرل محبی نے امریکہ کی جانب سے اس عمل میں رکاوٹیں ڈالنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس معاملے میں رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ عمل تاخیر کا شکار ہوا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکہ رکاوٹیں ڈالنا چھوڑ دے اور طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کی طرف واپس آئے تو ایران طے شدہ مفاہمت کے مطابق آبنائے ہرمز کو کھول سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ ایران کی شرائط قبول کرے۔ اگر امریکہ ایران کی شرائط قبول نہیں کرتا تو آبنائے ہرمز کسی بھی صورت نہیں کھولا جائے گا۔

News ID 1940903

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha